نہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کی جائز ہے اور نہ مدد مانگنا کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سد باب کر دیا گیا لیکن جن کے دلوں میں شرک کا روگ راہ پا گیا ہے وہ ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب استعانت میں فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کرتے ہیں بیوی سے مدد چاہتے ہیں ڈرائیور اور دیگر انسانوں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں اس طرح وہ یہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے سوا اوروں سے مدد مانگنا بھی جائز ہے۔ حالانکہ اسباب کے ما تحت ایک دوسرے سے مدد چاہنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ جس میں سارے کام ظاہر اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں حتی کہ انبیاء بھی انسانوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا (من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین کیلئے کون میرا مددگار ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فرمایا (وتعاونوا علی البر والتقوی) نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو ظاہر بات ہے کہ یہ تعاون ممنوع ہے نہ شرک بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ اس کا اصطلاحی شرک سے کیا تعلق؟ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کر سکتا ہو جیسے کسی فوت شدہ شخص کو مدد کے لیے پکارنا اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا اس کو نافع و ضار باور کرنا اور دور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے کی صلاحیت سے بہرہ ور تسلیم کرنا۔ اس کا نام ہے ما فوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا اور اسے خدائی صفات سے متصف ماننا اسی کا نام شرک ہے جو بدقسمتی سے محبت اولیاء کے نام پر مسلمان ملکوں میں عام ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
بلاگ شیئر کریں
بلاگ آرکائیو
زائرین کی تعداد :
آپ []ویں وزٹر ہیں
آپ []بار وزٹ کر چکے ہیں
فی الحال [] حاضرین ہیں
آپ []بار وزٹ کر چکے ہیں
اعداد وشمار :
تعداد کتب: 15
اردو سافٹ ویئر: 2
کتب حدیث سافٹ ویئر: 7
اردو سافٹ ویئر: 2
کتب حدیث سافٹ ویئر: 7
Labels
Quran
(4)
dawat tawheed
(4)
hadees urdu
(4)
hadith urdu
(4)
islam
(4)
islamic graphics
(4)
quran png
(4)
زیادہ بار پڑھی گئی تحاریر
-
وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اور یہ کہ سب سے یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ ...
-
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلہ ِفَلَا تَدْعُوا مَعَ اللہ ِأَحَدًا اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کیلئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کیساتھ کسی اور کو نہ...
-
قال: سمعت عتبان بن مالك الانصاري، ثم احد بني سالم، قال: غدا علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "لن...
-
"مسجد میں دو بار جماعت کا ہونا" حدثنا هناد حدثنا عبدة عن سعيد بن ابي عروبة عن سليمان الناجي البصري عن ابي المتوكل عن ابي سعيد قا...
-
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: "وقال ربكم ادعوني أستجب لكم" ”اور تمہارے رب کا...
-
ایسا شخص جو غیر اللہ کو غائبانہ حاجات میں پکارتا ہے اس کے نام کی نذرونیاز دیتا ہے، اس کی خوشنودی کیلئے جانور ذبح کرتا ہے،اس کا ڈر اور اس س...
-
حدثنا حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن عمران بن زائدة بن نشيط، عن ابيه، عن ابي خالد الوالبي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله علي...
متصف مراسلہ
۱) مافوق الاسباب طریقے سے صرف اللہ تعالیٰ کو پکاریں ۲)آپ کے رکوع و سجود صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہوں ۳) دعا صرف اللہ تعالیٰ سے مانگیں ۴) ...
شرک و بدعت
Powered by Blogger.
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔









